جب تک خود کو نہیں بدلیں گے، کچھ نہیں بدلے گا!

 قلم کار: احمد رضا

​📖 "خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی... نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا!"

💖💖


​انسان ہمیشہ اپنے حالات کا شکوہ کرتا ہے، معاشرے کی خرابیوں کا روونا روتا ہے اور چاہتا ہے کہ اس کے ارد گرد کی دنیا بدل جائے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ کائنات کا اصول اس کے بالکل برعکس ہے۔ تبدیلی کا سفر باہر سے شروع نہیں ہوتا، بلکہ اس کا آغاز انسان کے اپنے اندر سے ہوتا ہے۔ جب تک انسان اپنے چھ فٹ کے وجود کے اندر انقلاب نہیں لاتا، تب تک اس کی ظاہری زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آ سکتی۔

​قرآنِ پاک کی روشنی میں تبدیلی کا اصول

​اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآنِ مجید کے اندر واضح طور پر اصولِ تبدیلی بیان فرما دیا ہے کہ جب تک کوئی انسان یا قوم خود کو بدلنے کا عزم نہیں کرتی، الٰہی مدد بھی متحرک نہیں ہوتی۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:​ترجمہ: "بیشک اللہ کسی قوم کی حالت کو نہیں بدلتا یہاں تک کہ وہ خود اپنے باطن کی حالت کو بدل ڈالیں۔"

(سورۃ الرعد: 11)

​یہ آیتِ مقدسہ اس بات کی گواہی ہے کہ ہماری زندگی کے حالات، ہمارے باطن کے آئینے کا عکس ہوتے ہیں۔ اگر اندر غفلت، حرام و حلال کی تمیز کا خاتمہ اور خواہشاتِ نفسانی کا غلبہ ہو، تو باہر کی زندگی کبھی پرسکون نہیں ہو سکتی۔

​احادیثِ مبارکہ: دل کی اصلاح ہی اصل اصلاح ہے

​حضور سرکارِ دو عالم ﷺ نے انسانی وجود کے اس چھ فٹ کے گھر کو سنوارنے کے لیے "دل" کی اصلاح کو بنیاد قرار دیا ہے۔ آپ ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے:

​"خبردار! جسم میں گوشت کا ایک لوتھڑا ہے، جب وہ سدھر جاتا ہے تو پورا جسم سدھر جاتا ہے، اور جب وہ بگڑ جاتا ہے تو پورا جسم بگڑ جاتا ہے، سن لو! وہ دل ہے۔"

(صحیح بخاری)

​اس حدیثِ مبارکہ کی روشنی میں اگر ہم سچ اور جھوٹ، حلال اور حرام، اور طہارت و غلاظت کے فرق کو سمجھنا چاہتے ہیں، تو ہمیں اپنے دل کے بند کواڑوں کو کھولنا ہوگا اور اس میں "عشقِ الٰہی" کا چراغ روشن کرنا ہوگا۔

​اقوالِ اولیاء: اندر کی دنیا کو فتح کرو

​بزرگانِ دین اور صوفیاء کرام نے ہمیشہ انسان کو اپنے اندر جھانکنے کی تلقین کی ہے۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:

​"دل دریا سمندروں ڈونگھے، کون دلاں دیاں جانے ہو!"

​یعنی یہ دل ایک ایسا سمندر ہے جس کے اندر اگر سچائی کی پرورش کی جائے تو انسان کو کائنات کے حقائق نظر آنے لگتے ہیں۔ اسی طرح حضرت جلال الدین رومی علیہ الرحمہ کا ایک مشہور قول ہے:

​"کل میں چالاک تھا، اس لیے میں دنیا کو بدلنا چاہتا تھا۔ آج میں عقلمند ہوں، اس لیے میں خود کو بدل رہا ہوں۔"

​شیخ الاسلام کا فکری پیغام: ایک نیا شعور

​معروف مفسر اور عالمِ دین ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے اسی قرآنی و نبوی فلسفے کو دورِ حاضر کے انداز میں سمجھاتے ہوئے فرمایا ہے کہ جس پرانے اور غافل شعور نے ہماری انسانیت کو مرجانے کے قریب کر دیا ہے، اسے ختم کرنا اب ناگزیر ہو چکا ہے۔ ہمیں اپنی سوچوں کو اللہ کے امر اور نہی (حکم اور ممانعت) کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔ جب تک اچھائی اور برائی کی تمیز ہمارے اندر بیدار نہیں ہوگی، ہم ایک سچے انسان اور سچے مومن نہیں بن سکتے۔

​🎥 اس موضوع پر فکری و علمی ویڈیو بیان یہاں دیکھیں:

​اگر آپ اس گہرے فلسفے کو مزید تفصیل سے سمجھنا چاہتے ہیں اور اپنے اندر عشقِ الٰہی کا چراغ روشن کرنا چاہتے ہیں، تو نیچے دیے گئے ویڈیو لنک پر کلک کریں:

​🖥️ 


​💬 آپ کا ضمیر کیا کہتا ہے؟

​کیا آپ کو لگتا ہے کہ ہم واقعی خود کو بدلنے کے لیے تیار ہیں؟ اپنے دل کی آواز کو نیچے کمنٹ باکس (Comment Box) میں ضرور لکھیں اور اس اصلاحی تحریر کو اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کر کے اس خیر کے سفر میں ہمارا ساتھ دیں۔

Comments

Popular posts from this blog

جیڑا علیؓ دا حبدار نئیں، او جنت دا حقدار نئیں: شانِ مولا علی شیرِ خدا احادیث کی روشنی میں

روزمرہ زندگی میں استغفار کی اہمیت اور برکات

قصور کی تاریخ: ایک قدیم شہر کا سفر