حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ کا عشقِ رسول اور آخری اذان

 مصنف: احمد رضا

​📸 


​السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!

​عشقِ رسول ﷺ کائنات کا وہ پاکیزہ ترین جذبہ ہے جس کے بغیر ایمان کا تصور بھی ادھورا ہے۔ جب سچے عشق کی بات آتی ہے تو صحابہ کرام میں سب سے پہلا اور نمایاں نام مؤذنِ رسول، سیدنا بلال حبشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذہن میں آتا ہے۔ قائدِ تحریک منہاج القرآن، شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے ایک دل گداز بیان میں حضرت بلال حبشی کے اسی لازوال عشق اور مدینہ منورہ سے ان کی سچی وابستگی کا تذکرہ فرمایا ہے۔

​مدینہ منورہ سے ہجرت

​ڈاکٹر طاہرالقادری فرماتے ہیں کہ جب حضور نبی اکرم ﷺ کا وصالِ ظاہری ہو گیا، تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ پر غم کا ایسا پہاڑ ٹوٹا کہ ان کا مدینہ منورہ کی گلیوں میں دل نہیں لگتا تھا۔ آقا علیہ السلام کی جدائی کے صدمے میں انہوں نے مدینہ پاک چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور شام کے شہر حلب تشریف لے گئے۔

​خواب میں آمد اور سرکار ﷺ کا گلہ

​کچھ عرصہ گزرنے کے بعد، ایک رات حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو خواب میں حضور سرکارِ دو عالم ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی۔ آقا علیہ الصلوۃ والسلام نے انتہائی پیار اور گلے کے انداز میں ارشاد فرمایا:

​"بلال! یہ کیا جفا ہے؟ کیا ہمیں ملنے کو تمہارا جی نہیں کرتا؟"

​سرکار ﷺ کی زبانِ مبارک سے یہ الفاظ سننا تھا کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ تڑپ کر اٹھے۔ انہوں نے فوراً اپنا سامان باندھا اور دیوانہ وار مدینہ طیبہ کی طرف دوڑ پڑے۔

​مزارِ اقدس پر حاضری اور رقت آمیز منظر

​جب حضرت بلال رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ پہنچے اور مزارِ اقدس پر ان کی نگاہ پڑی، تو ان کے منہ سے ایک چیخ نکل گئی۔ وہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور حضور ﷺ کی قبرِ انور سے لپٹ کر بے ہوش ہو گئے۔ جب انہیں ہوش آیا تو مدینہ کے تمام صحابہ اور اہل بیت نے ان سے اصرار کیا کہ بلال! آج ہمیں وہی حضور ﷺ کے دور مبارک والی اذان سنا دو۔ حضرت بلال نے پہلے تو معذرت کی اور فرمایا کہ آقا علیہ السلام کے بغیر مجھ سے اذان نہیں پڑھی جائے گی۔

​شہزادگانِ کربلا کی فرمائش اور آخری اذان

​جب حضرت بلال نے انکار فرمایا تو لوگ آقا علیہ السلام کے پیارے نواسوں، سیدنا امام حسن اور سیدنا امام حسین علیہما السلام کو لے آئے۔ جب حسنین کریمین نے اپنی معصوم زبان سے فرمائش کی، تو حضرت بلال ان کا حکم نہ ٹال سکے اور اذان دینے کے لیے کھڑے ہو گئے۔

​جیسے ہی عاشقِ رسول نے اپنے مخصوص انداز میں بلند آواز سے "اللہ اکبر" پکارا، تو پورے مدینہ میں ایک کہرام مچ گیا۔ لوگ روتے ہوئے اپنے گھروں سے نکل آئے۔ لیکن جیسے ہی حضرت بلال ان کلمات پر پہنچے:

​"أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ الله"

​تو آقا علیہ السلام کی یاد کا ایسا غلبہ ہوا کہ حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ غش کھا کر زمین پر گر پڑے۔

​مدینہ میں قیامت کا سماں

​ڈاکٹر طاہرالقادری بیان کرتے ہیں کہ اس وقت مدینہ منورہ کے لوگوں پر گریہ و بکا کا وہ عالم تھا کہ صحابہ کرام فرماتے ہیں: خدا کی قسم! یوں لگتا تھا جیسے مدینہ پاک میں آج ہی قیامت آ گئی ہو۔ حضرت بلال کی اذان نے ہر دل کو حضور ﷺ کے عہدِ مبارک کی یاد سے تڑپا دیا تھا۔

​🎥 شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کا مکمل ویڈیو بیان دیکھیں:

​آپ نیچے دیے گئے ویڈیو پلیئر پر کلک کر کے اس رقت آمیز اور ایمان افروز بیان کی مکمل ویڈیو براہِ راست دیکھ سکتے ہیں:

​📺 


​📢 قاریینِ کرام کے لیے ایک خاص پیغام!

​بارگاہِ رسالت ﷺ میں اپنا نذرانۂ عقیدت اور درود و سلام پیش کرنے کے لیے نیچے کمنٹ باکس (Comment Box) میں "صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم" ضرور لکھیں، اور عشقِ بلالی سے لبریز اس تحریر کو اپنے دوستوں کے ساتھ لازمی شیئر کریں۔ اللہ پاک ہمیں صحابہ کرام جیسا سچا عشقِ رسول عطا فرمائے۔ آمین۔

Comments

Popular posts from this blog

جیڑا علیؓ دا حبدار نئیں، او جنت دا حقدار نئیں: شانِ مولا علی شیرِ خدا احادیث کی روشنی میں

روزمرہ زندگی میں استغفار کی اہمیت اور برکات

قصور کی تاریخ: ایک قدیم شہر کا سفر