اللہ کے ولی کی ۳ نشانیاں: ڈاکٹر محمد طاہر القادری کا ایمان افروز بیان
اولیاء اللہ اور اللہ کے نیک بندے وہ ہستیاں ہوتی ہیں جن کا ہر لمحہ اللہ کی رضا اور اس کی یاد میں گزرتا ہے۔ لیکن ہم کیسے پہچانیں کہ حقیقی ولی کون ہے؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں اللہ کے ولیوں کی کیا علامات ہیں؟
اس اہم موضوع پر شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب نے اپنے اس خصوصی بیان میں تفصیلی گفتگو فرمائی ہے اور اولیاء اللہ کی تین بڑی نشانیاں واضح کی ہیں جن کو جاننا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔
📸
🔴
۱. پہلی نشانی: جن کو دیکھ کر خدا یاد آ جائے:
ڈاکٹر صاحب نے حدیثِ پاک کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ اللہ کے ولیوں کی پہلی اور بڑی نشانی یہ ہوتی ہے کہ جب آپ ان کی محفل میں بیٹھتے ہیں یا انہیں دیکھتے ہیں، تو آپ کا دل دنیا سے اچاٹ ہو جاتا ہے اور آپ کو اللہ کی یاد ستانے لگتی ہے۔ ان کے چہرے کا نور اور ان کی گفتگو انسان کے اندر روحانیت بیدار کر دیتی ہے۔
۲. دوسری نشانی: اللہ کی رضا کے لیے محبت اور دشمنی:
بیان میں دوسری اہم علامت یہ بتائی گئی ہے کہ اللہ کے نیک بندے اپنی ذات کے لیے کسی سے حسد، بغض یا دشمنی نہیں رکھتے۔ ان کی محبت بھی اللہ کی رضا کے لیے ہوتی ہے اور اگر وہ کسی باطل قوت سے بیزاری کا اظہار کرتے ہیں تو وہ بھی صرف اور صرف اللہ کے دین کی خاطر ہوتا ہے۔ ان کا اپنا کوئی ذاتی مفاد نہیں ہوتا۔
۳. تیسری نشانی: تلاوتِ قرآن اور ذکرِ الٰہی سے دل کا سکون:
اللہ کے ولی کی تیسری نشانی یہ ہے کہ ان کی زندگی کا اوڑھنا بچھونا ذکرِ الٰہی ہوتا ہے۔ وہ خلوت میں ہوں یا جلوت میں، ان کا دل اللہ کی یاد سے غافل نہیں ہوتا۔ تلاوتِ قرآن اور کثرتِ ذکر سے ان کے دلوں کو وہ اطمینان حاصل ہوتا ہے جس کا قرآنِ مجید میں وعدہ کیا گیا ہے۔
خلاصہ کلام:
یہ بیان ہمیں دعوتِ فکر دیتا ہے کہ ہم بھی اولیاء اللہ کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اپنے دلوں کو اللہ کی محبت کا مرکز بنائیں۔ ظاہری نمود و نمائش کے بجائے حقیقی تقویٰ اور طہارت اختیار کریں۔
قارئین کے لیے پیغام:
"اللہ پاک ہمیں اولیاءِ کرام کی سچی محبت اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔
احمد رضا صاحب کے بلاگ پر موجود یہ تحریر اگر آپ کو پسند آئی ہو تو نیچے کمنٹ (Comment) باکس میں 'آمین' ضرور لکھیں اور اس معلوماتی پوسٹ کو اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کر کے ثوابِ جاریہ میں حصہ لیں۔"
.png)
Comments
Post a Comment