محبت کے پیمانے: ڈاکٹر محمد طاہر القادری کا ایک انتہائی فکر انگیز اور روحانی بیان
محبت ایک ایسا جذبہ ہے جو انسان کی روح کو بدل کر رکھ دیتا ہے، لیکن جب یہ محبت عام دنیاوی رشتوں سے بلند ہو کر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی ذاتِ گرامی سے جڑ جاتی ہے، تو یہ عشقِ حقیقی کا روپ دھار لیتی ہے۔ ہم اپنی محبت کو کیسے پرکھیں؟ حقیقی محبت کے پیمانے کیا ہیں؟
اسی مہر و الفت اور بندگی کے رازوں کو آشکار کرنے کے لیے، شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب نے اپنے اس خوبصورت بیان میں "محبت کے پیمانے" کی تشریح فرمائی ہے، جو ہر مومن کے دل کی دھڑکن کو گرمانے کے لیے کافی ہے۔
📸
🔴
۱. محبت کا پہلا پیمانہ: تسلیم و رضا
ڈاکٹر صاحب نے اپنے پُرکشش انداز میں سمجھایا کہ محبت کا سب سے پہلا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے محبوب کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دے۔ اللہ سے محبت کا دعویٰ تبھی سچا مانا جائے گا جب انسان اس کی رضا میں راضی رہنا سیکھ جائے۔ ہر حال میں شکر ادا کرنا ہی محبت کا اصل امتحان ہے۔
۲. محبت کا دوسرا پیمانہ: کثرتِ ذکر و یاد
جس انسان کے دل میں کسی کی سچی محبت گھر کر جائے، وہ ہر وقت اپنے محبوب کا تذکرہ سننا اور کرنا پسند کرتا ہے۔ اللہ اور اس کے حبیب ﷺ کے سچے چاہنے والوں کا پیمانہ یہ ہے کہ ان کی زبانیں اور دل ہر لمحہ یادِ الٰہی اور درود و سلام کے نور سے منور رہتے ہیں۔
۳. محبت کا تیسرا پیمانہ: اطاعت اور اتباع
صرف زبانی دعوے محبت کا ثبوت نہیں بن سکتے۔ محبت کا حقیقی پیمانہ یہ ہے کہ انسان اپنے محبوب کے نقشِ قدم پر چلے۔ اس بیان میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ اللہ اور رسول ﷺ سے محبت کا سچا معیار سنتِ نبوی ﷺ پر عمل کرنا اور شریعت کی پابندی کرنا ہے۔
خلاصہ کلام:
یہ بیان ہمیں اپنے دلوں کے اندر جھانکنے کی دعوت دیتا ہے کہ کیا ہماری محبت واقعی ان پیمانوں پر پوری اترتی ہے؟ ہمیں دنیا کی فانی محبتوں کے جال سے نکل کر مولائے حقیقی کی ابدی محبت کو پانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
قارئین کے لیے پیغام:
"اللہ پاک ہمارے دلوں کو اپنی اور اپنے پیارے رسول ﷺ کی سچی اور والہانہ محبت سے بھر دے، آمین۔
احمد رضا صاحب کے بلاگ پر موجود یہ روحانی تحریر اگر آپ کے دل کو چھو گئی ہو، تو نیچے کمنٹ (Comment) باکس میں اپنی رائے کا اظہار ضرور کریں اور اس پوسٹ کو شیئر کر کے دوسروں تک بھی یہ خوبصورت پیغام پہنچائیں۔"

Comments
Post a Comment