روکھے پن کا انجام: جب دلوں سے عشق رخصت ہو تو دین کی معرفت ختم ہو جاتی ہے

 اسلام صرف ظاہری عبادات یا بحث و تکرار کا نام نہیں، بلکہ یہ دلوں کی نرمی، باہمی محبت، اور آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام کی سچی الفت کا نام ہے۔ تاریخِ اسلام گواہ ہے کہ جب تک امت کے دلوں میں عشقِ رسول ﷺ کی تڑپ اور باہمی پیار موجود تھا، تب تک معاشرہ امن کا گہوارہ تھا۔ مگر افسوس! آج ہم نے ظاہری بحثوں کو تو اپنا لیا، لیکن دلوں کی اس اصل روح اور تڑپ کو پسِ پشت ڈال دیا۔


​🔴 


​۱. طبیعتوں کا روکھا پن اور دین کی معرفت:

ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب نے ویڈیو میں بڑے جذباتی اور سچے انداز میں امت کی حالتِ زار پر روشنی ڈالی ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ اب دلوں میں نہ وہ حُسنِ نبوی کی تڑپ رہی اور نہ ہی وہ پیار کے میکدے اور جام رہے۔ ہماری طبیعتوں میں ایک عجیب سا روکھا پن اور سختی آ گئی ہے، اور اسی روکھے پن نے ہمارے دلوں سے دین کی اصل معرفت کو ختم کر دیا ہے، جس کی وجہ سے بندے کا اپنے مولا سے حقیقی تعلق کمزور پڑ گیا ہے۔

​۲. ہم فتوے لگانے والے اور نفرتیں بونے والے بن گئے:

پیر صاحب نے موجودہ دور کے سب سے بڑے المیے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ جب دل عشق و محبت سے خالی ہوئے، تو ہم دوسروں پر فتوے لگانے والے بن گئے۔ ہم نے پیار بانٹنے کے بجائے ہر طرف نفرتوں کے بیج بونے شروع کر دیے ہیں۔ دین کا پیغام تو جوڑنے کا تھا، لیکن ہمارے روکھے پن نے انسانوں کو ایک دوسرے سے دور کر دیا۔

​۳. عشق اور محبت کا بیج:

محبت اور عشق کبھی بھی سخت اور روٹھی ہوئی طبیعتوں میں پروان نہیں چڑھ سکتے۔ عشقِ الٰہی اور حبِ رسول ﷺ صرف ان دلوں میں جاگتے ہیں جہاں عاجزی، نرمی اور تڑپ موجود ہو۔ اگر ہم اپنے ایمان کو بچانا چاہتے ہیں اور اپنے مولا سے تعلق کو دوبارہ مضبوط کرنا چاہتے ہیں، تو ہمیں اپنی طبیعتوں کے اس روکھے پن کو ختم کرنا ہوگا اور اپنے دلوں میں محبت کا بیج بونا ہوگا۔

​آج کا پیغام:

یہ فکر انگیز بیان ہمیں اپنے اندرونی رویوں کو بدلنے کی دعوت دیتا ہے۔ فتوے بازی اور نفرتوں کی سیاست سے نکل کر ہمیں دوبارہ اس حقیقی عشق کو دلوں میں بسانا ہوگا جو اولیاء اللہ اور صوفیائے کرام کا شیوہ تھا۔ جب دلوں میں نرمی آئے گی، تو معاشرے میں امن اور دین کی سچی معرفت خود بخود لوٹ آئے گی۔

​قارئین کے لیے پیغام:

​"امید ہے کہ طبیعتوں کی نرمی اور عشقِ حقیقی کی اہمیت پر مبنی یہ اصلاحی تحریر آپ کے دلوں کو جھنجھوڑے گی اور محبت کا احساس بیدار کرے گی۔ اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کو سخت ہونے سے بچائے اور امت میں باہمی پیار و اتحاد پیدا فرمائے۔ امین۔

​اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہو تو نیچے کمنٹ (Comment) سیکشن میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اسے ثواب کی نیت سے اپنے تمام واٹس ایپ گروپس اور فیس بک پر ضرور شیئر کریں۔"

Comments

Popular posts from this blog

جیڑا علیؓ دا حبدار نئیں، او جنت دا حقدار نئیں: شانِ مولا علی شیرِ خدا احادیث کی روشنی میں

روزمرہ زندگی میں استغفار کی اہمیت اور برکات

قصور کی تاریخ: ایک قدیم شہر کا سفر