غمِ حسین میں رونا: سنتِ مصطفیٰ ﷺ کی روشنی میں

 مصنف: احمد رضا

​📸 


​السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!

​معرکہ کربلا اور سیدنا امام حسین علیہ السلام کی قربانی تاریخِ اسلام کا وہ عظیم الشان باب ہے جس پر جتنا بھی غم منایا جائے اور جتنے بھی آنسو بہائے جائیں وہ کم ہیں۔ کچھ لوگ نادانی میں یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ غمِ حسین میں رونا یا آنسو بہانا کیسا ہے؟ قائدِ تحریک منہاج القرآن، شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے احادیثِ مبارکہ کے مستند دلائل کے ساتھ اس حقیقت پر روشنی ڈالی ہے کہ امام حسین کا غم منانا اور ان کی شہادت پر آنسو بہانا کسی اور کی نہیں بلکہ خود حضور نبی اکرم ﷺ کی سنت ہے۔

​حضرت ام الفضل بنت الحارث کی روایت

​ڈاکٹر طاہرالقادری نے ایک انتہائی معتبر اور صحیح حدیث کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ حضور ﷺ کی چچی جان حضرت ام الفضل بنت الحارث رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت کرتی ہیں کہ ایک دن وہ بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئیں۔ انہوں نے دیکھا کہ آقا علیہ الصلوۃ والسلام تشریف فرما ہیں، لیکن آپ ﷺ کی چشمِ مقدس (مبارک آنکھوں) سے زار و قطار آنسو بہہ رہے تھے۔

​وہ بیان کرتی ہیں کہ آقا علیہ السلام کو یوں روتا دیکھ کر میرا دل تڑپ اٹھا اور میں نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ کو کیا ہوا؟ آپ کیوں رو رہے ہیں؟"

​جبرائیل امین کی آمد اور شہادت کی خبر

​حضور سرکارِ دو عالم ﷺ نے اپنی چچی جان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے جو ارشاد فرمایا، وہ ہر مسلمان کا دل خون کے آنسو رلا دینے کے لیے کافی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:

​"میں کیوں نہ روؤں؟ ابھی ابھی جبرائیل امین میرے پاس آئے تھے اور انہوں نے مجھے یہ جگر سوز خبر دی ہے کہ یا رسول اللہ! آپ کا یہ شہزادہ حسین، جو ابھی آپ کی گود میں کھیل رہا ہے، آپ کے بعد آپ کی امت اس شہزادے کو قتل کر دے گی، اسے شہید کر دے گی۔"

​مصطفیٰ ﷺ کا سوز اور کربلا کی مٹی

​جب آقا علیہ السلام نے یہ دردناک خبر سنی تو آپ ﷺ کا دلِ مبارک تڑپ اٹھا۔ آپ ﷺ نے حیرت اور انتہائی دکھ کے ساتھ جبرائیل سے پوچھا: "کیا میرے اس شہزادے کو شہید کر دیا جائے گا؟ جسے میں اپنے کندھوں پر سوار کرتا ہوں، جسے میں اپنی گود میں کھلاتا ہوں اور پیار کرتا ہوں؟" جبرائیل امین نے عرض کیا: "جی ہاں یا رسول اللہ! آپ کی امت ہی اسے شہید کرے گی۔"

​اس کے بعد جبرائیل امین نے حضور ﷺ کی بارگاہ میں میدانِ کربلا کی وہ سرخ مٹی بھی پیش کی، جہاں امام عالی مقام سیدنا امام حسین علیہ السلام کو تین دن کا بھوکا پیاسا رکھ کر مظلومانہ طور پر شہید کیا جانا تھا۔

​بلاگ پوسٹ کا خلاصہ

​اس مستند واقعے سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ امام حسین علیہ السلام کی شہادت پر آنسو بہانا اور ان کا غم منانا عین سنتِ مصطفیٰ ﷺ ہے۔ جب خود حضور ﷺ نے امام حسین کی دنیا میں موجودگی کے دوران، ان کی شہادت کی خبر سن کر آنسو بہائے، تو آج امتی ہونے کے ناطے ہمارے دلوں کا ان کے غم میں تڑپنا اور ہماری آنکھوں کا رونا عین ایمان کی نشانی ہے۔

​🎥 شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کا مکمل ویڈیو بیان دیکھیں:

​آپ نیچے دیے گئے ویڈیو پلیئر پر کلک کر کے اس ایمان افروز اور رقت آمیز بیان کی مکمل ویڈیو براہِ راست دیکھ سکتے ہیں:

​📺 


​📢 قاریینِ کرام کے لیے ایک خاص پیغام!

​آلِ رسول ﷺ کی محبت اور کربلا کے مظلوموں کی بارگاہ میں اپنا نذرانۂ عقیدت پیش کرنے کے لیے نیچے کمنٹ باکس (Comment Box) میں اپنا پیغام ضرور لکھیں، اور اس پاکیزہ تحریر کو اپنے تمام دوستوں اور رشتہ داروں کے ساتھ لازمی شیئر کریں۔ اللہ پاک ہمیں اہل بیت کا سچا غلام اور محب بنائے رکھے۔ آمین۔

Comments

Popular posts from this blog

جیڑا علیؓ دا حبدار نئیں، او جنت دا حقدار نئیں: شانِ مولا علی شیرِ خدا احادیث کی روشنی میں

روزمرہ زندگی میں استغفار کی اہمیت اور برکات

قصور کی تاریخ: ایک قدیم شہر کا سفر