صحابہ کرام اور اہلِ بیتِ اطہار کے آپسی تعلقات اور گہری محبت: تاریخِ اسلام کا سنہرا باب
تاریخِ اسلام میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کا مقام و مرتبہ ستاروں اور چاند کی مانند ہے۔ بعض لوگ نادانی، کم علمی یا بدنیتی کی وجہ سے ان دونوں پاکیزہ گروہوں کے درمیان دوریوں اور اختلافات کا تاثر دیتے ہیں، لیکن اگر سچی اور غیر جانبدارانہ تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ صحابہ اور اہلِ بیت کے درمیان اتنی گہری محبت، بے پناہ احترام اور خونی رشتے موجود تھے کہ وہ ایک ہی گلشن کے مہکتے ہوئے پھول تھے۔ ان کا آپسی تعلق ایمان، اخلاص اور لازوال قربانیوں کی بنیاد پر قائم تھا۔
🔴
۱. سیدنا عثمانِ غنیؓ اور امام حسین علیہ السلام کا خونی رشتہ:
ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب نے مستند تاریخی حقائق کے ساتھ ایک ایسی سچائی بیان فرمائی ہے جو دلوں کو جوڑتی ہے اور نفرتوں کا خاتمہ کرتی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ امیر المؤمنین سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کے پوتے (عبداللہ بن عمرو بن عثمان) کا نکاح نواسہِ رسول، سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ بنتِ حسین سے ہوا تھا۔
یعنی امام حسین علیہ السلام کی شہزادی، حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کے پوتے کے گھر میں ان کی زوجہ بن کر گئیں۔ اہلِ بیتِ اطہار نے اپنی شہزادیوں کے رشتے صحابہ کرام کے گھرانوں میں دیے بھی اور وہاں سے رشتے لیے بھی، جو ان کے مابین کامل اعتماد اور یگانگت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
۲. کیا مخالفین کے ساتھ ایسے رشتوں کا تصور ہو سکتا ہے؟
ڈاکٹر صاحب نے ایک بہت بڑا، لاجواب اور منطقی سوال اٹھایا کہ کیا کوئی انسان اپنے مخالفین، کافروں یا مرتدوں کے ساتھ اپنی بیٹیوں اور پاکیزہ شہزادیوں کے ایسے مقدس رشتے کر سکتا ہے؟ ہرگز نہیں!
صحابہ اور اہلِ بیت کے یہ آپسی رشتے، شادیاں اور خاندانی تعلقات اس بات کی سب سے بڑی اور زندہ دلیل ہیں کہ ان کے دل ایک دوسرے کے لیے محبت، احترام اور ایمان کے نور سے بھرے ہوئے تھے۔ ان پاک ہستیوں کے خلاف زبان درازی کرنے والوں اور ان کے مابین دوریاں پیدا کرنے والوں کو اللہ کا خوف کرنا چاہیے، کیونکہ وہ تاریخ کے روشن ترین سچ کا انکار کر رہے ہوتے ہیں۔
۳. مستند کتابوں سے سب سے بڑا حوالہ:
ڈاکٹر صاحب نے اس واقعے کو ثابت کرنے کے لیے کسی عام یا غیر معروف کتاب کا نہیں، بلکہ مکتبہِ فکر کی انتہائی معتبر، مستند اور مشہور کتاب "شرح نہج البلاغہ" کا حوالہ دیا ہے، جسے ابنِ ابی الحدید نے لکھا ہے۔ اس عظیم الشان کتاب میں یہ پورا واقعہ اور رشتہ داری تفصیل کے ساتھ درج ہے، جو اس رشتے کو تاریخی طور پر سو فیصد سچ اور ناقابلِ تردید ثابت کرتی ہے۔
آج کا پیغام:
صحابہ کرام اور اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام ایک ہی شمعِ رسالت کے پروانے اور ایک ہی دین کے محافظ ہیں۔ آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ان تمام پیاروں کے درمیان محبت کا یہ خوبصورت رشتہ ہمیں یہ سبق سکھاتا ہے کہ ہم بھی اپنے دلوں کو ان سب کی یکساں محبت اور تعظیم سے آباد رکھیں۔ ہمیں تفریق، فرقہ واریت اور دوریوں کے جھوٹے پروپیگنڈوں سے بچ کر امت میں امن، پیار اور اتحاد کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
قارئین کے لیے پیغام:
"امید ہے کہ صحابہ کرام اور اہلِ بیتِ اطہار کے آپسی تعلقات اور محبت پر مبنی یہ مستند اور تاریخی تحریر آپ کے ایمان کو تازہ کرے گی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان تمام پاک ہستیوں کے نقشِ قدم پر چلنے، ان کا احترام کرنے اور ان سے سچی محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ امین۔
اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہو تو نیچے کمنٹ (Comment) سیکشن میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اسے ثواب کی نیت سے اپنے تمام واٹس ایپ گروپس اور فیس بک پر ضرور شیئر کریں۔"
Comments
Post a Comment