سیدنا علی المرتضیٰؓ نے خیر (بھلائی) کا سب سے بڑا راز بتا دیا
ہم میں سے ہر انسان دنیا اور آخرت میں "خیر" یعنی بھلائی اور کامیابی کا طالب ہے۔ لیکن حقیقی خیر اور کامیابی کیا ہے؟ اس کا جواب بابِ مدینۃ العلم، شیرِ خدا سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم نے اپنے ایک مایہ ناز اور تاریخی فرمان میں عطا فرمایا ہے۔ یہ ایک ایسا سنہرا اصول ہے جسے اگر ہم اپنی زندگیوں میں نافذ کر لیں تو ہماری دنیا بھی سنور جائے اور آخرت بھی۔
🔴
۱. مال اور اولاد کی کثرت خیر نہیں ہے:
ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب نے اس ایمان افروز بیان میں سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا قولِ مبارک نقل کرتے ہوئے فرمایا کہ آپؓ نے واضح لفظوں میں خیر کا پیمانہ سمجھایا۔ مولا علیؓ فرماتے ہیں کہ: "خیر یہ نہیں ہے کہ تمہارا مال بہت زیادہ ہو جائے یا تمہاری اولاد بہت زیادہ ہو جائے۔" یعنی دنیاوی مال و زر اور کثرتِ اولاد کو اللہ پاک کی طرف سے حقیقی کامیابی یا خیر کی حتمی دلیل نہیں سمجھا جا سکتا، کیونکہ یہ چیزیں تو آزمائش بھی ہو سکتی ہیں۔
۲. حقیقی خیر کا پہلا راز: علم کی کثرت اور حلم کی بلندی:
شیرِ خدا سیدنا علی المرتضیٰؓ نے فرمایا کہ اصل خیر اور بھلائی یہ ہے کہ: "تمہارا علم زیادہ ہو جائے اور تمہارا حلم (بردباری، نرمی اور برداشت) بڑا ہو جائے۔" ڈاکٹر صاحب نے اس نکتے کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ جیسے جیسے انسان کا علم بڑھے، ویسے ہی اس کے مزاج میں نرمی، عاجزی اور برداشت آنی چاہیے۔ علم کے ساتھ حلم کا ہونا ہی انسان کو معاشرے کے لیے خیر کا باعث بناتا ہے۔
۳. حقیقی خیر کا دوسرا راز: اللہ کی عبادت پر فخر اور توبہ کا جذبہ:
مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے مزید ارشاد فرمایا کہ اصل خیر یہ ہے کہ: "تم اپنے رب کی عبادت پر فخر کرو (یعنی اللہ کی بندگی میں سکون پاؤ)۔" اور اگر تم سے کوئی نیکی ہو جائے تو اللہ کا شکر ادا کرو، اور اگر خدانخواستہ کوئی گناہ یا خطا سرزد ہو جائے تو فوراً اللہ کی بارگاہ میں استغفار کرو اور اپنے گناہوں کی معافی مانگو۔ یہی توبہ اور بندگی کا جذبہ انسان کو اللہ کے قریب کرتا ہے۔
آج کا پیغام:
سیدنا علی المرتضیٰؓ کا یہ فرمان ہمیں زندگی کا اصل مقصد یاد دلاتا ہے۔ ہمیں صرف دنیاوی مال، گاڑیوں اور جائیدادوں کے پیچھے بھاگنے کے بجائے اپنے علم کو نافذ کرنے، اپنی طبیعتوں میں حلم اور نرمی پیدا کرنے، اور اللہ کی بندگی میں دل لگانے کی ضرورت ہے۔ جب ہم علم، حلم اور استغفار کو اپنائیں گے، تو کائنات کی ہر خیر ہمارے مقدر میں لکھ دی جائے گی۔
قارئین کے لیے پیغام:
"امید ہے کہ امیر المؤمنین سیدنا علی المرتضیٰؓ کے اس فرمانِ عالی شان پر مبنی یہ مستند تحریر آپ کے دلوں میں علم اور حلم کا جذبہ بیدار کرے گی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں مولا علیؓ کے نقشِ قدم پر چلنے اور حقیقی خیر سمیٹنے کی توفیق عطا فرمائے۔ امین۔
اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہو تو نیچے کمنٹ (Comment) سیکشن میں اپنے تاثرات کا اظہار کریں اور اسے ثواب کی نیت سے اپنے تمام واٹس ایپ گروپس اور فیس بک پر ضرور شیئر کریں۔"
Comments
Post a Comment