شجرکاری اور اسلام: درخت لگانا ایک عظیم عبادت اور صدقہ جاریہ ہے
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کائنات کو انسان کے لیے خوبصورت اور متوازن بنایا ہے، اور اس توازن کو برقرار رکھنے میں درختوں اور ہریالی کا بہت بڑا کردار ہے۔ دینِ اسلام جہاں ہمیں آخرت کی فکر اور ظاہری عبادات کی تعلیم دیتا ہے، وہاں ایک صحت مند اور پاکیزہ معاشرے کی تعمیر کے لیے ماحول کی صفائی اور شجرکاری کی بھی بھرپور ترغیب دیتا ہے۔
📸
۱. شجرکاری احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں:
حضور نبی اکرم ﷺ نے درخت لگانے اور زمین کو ہرا بھرا رکھنے کو ایک بہترین عمل قرار دیا ہے۔ آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمانِ عالیشان ہے کہ جس شخص نے ایک درخت اگایا یا بویا، اس نیت سے کہ لوگ اس کے سائے میں آ کر بیٹھیں گے اور اس کا پھل کھائیں گے، تو یہ اللہ کے حضور صرف ایک دنیاوی کام نہیں بلکہ ایک عظیم عبادت، صدقہ اور خیرات بن جاتا ہے۔
ایک اور حدیثِ مبارکہ میں یہاں تک فرمایا گیا ہے کہ اگر قیامت قائم ہو رہی ہو اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں پودا ہو، تو اگر وہ اسے لگا سکتا ہے تو اسے ضرور لگا دے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں شجرکاری کو کتنی اہمیت حاصل ہے۔
۲. پھل دار اور سایہ دار درختوں کے فوائد:
ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب نے اپنے بیان میں بڑی خوبصورت بات ارشاد فرمائی ہے کہ اگر ہو سکے تو پھل دار درخت لگائیں کیونکہ اس کے دوہرے فائدے ہیں۔ پھل دار درخت سے انسانوں اور پرندوں کو رزق اور پھل بھی ملتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ سایہ بھی نصیب ہوتا ہے۔ اگر پھل دار درخت ممکن نہ ہو، تو سایہ دار درخت ضرور لگانا چاہیے تاکہ مسافروں اور مخلوقِ خدا کو راحت ملے۔
🔴
۳. ماحول اور مزاج کی صحت (Environmental & Temperamental Health):
جب ہم اپنے ارد گرد درخت لگاتے ہیں، تو اس سے معاشرے کو ماحولیاتی صحت (Environmental Health) ملتی ہے۔ ہریالی اور درختوں کی وجہ سے درجہ حرارت کم ہوتا ہے، ہوا صاف ہوتی ہے اور آلودگی کا خاتمہ ہوتا ہے۔
ڈاکٹر صاحب نے ایک اور گہری بات بتائی کہ ماحولیاتی صحت سے انسان کو مزاج کی صحت (Temperamental Health) حاصل ہوتی ہے۔ یعنی جب ماحول خوبصورت اور ہرا بھرا ہوگا، تو انسان کا موڈ اچھا رہے گا، چڑچڑاپن دور ہوگا اور کئی نفسیاتی و جسمانی بیماریاں ختم ہوں گی۔
۴. تحریکِ منہاج القرآن کے کارکنان کے لیے حکم:
ڈاکٹر طاہر القادری صاحب نے اس ویڈیو میں دنیا بھر میں موجود اپنے تمام وابستگان اور منہاج القرآن کے کارکناں کو یہ خاص حکم دیا ہے کہ ہر شخص پر یہ واجب ہے کہ وہ اپنے حصے کا کم از کم ایک درخت ضرور لگائے، تاکہ ملک اور پوری دنیا کو گلزار بنایا جا سکے۔
آج کا پیغام:
درخت لگانا اور ماحول کو صاف رکھنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ یہ نہ صرف ہمارے اپنے فائدے کے لیے ہے بلکہ آنے والی نسلوں پر ایک بہت بڑا احسان ہے۔ ائیے ہم سب مل کر یہ عہد کریں کہ اپنے گھروں، گلیوں اور شہروں میں پودے لگائیں گے اور اس سنتِ مبارکہ کو زندہ کریں گے۔
قارئین کے لیے پیغام:
"امید ہے کہ شجرکاری اور اسلامی تعلیمات پر مبنی یہ معلوماتی اور ایمان افروز تحریر آپ کو پسند آئی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے ماحول کو صاف ستھرا اور ہرا بھرا رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ امین۔
اس موضوع پر ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب کا یہ خوبصورت اور تفصیلی بیان اوپر دی گئی ویڈیو میں ضرور سنیں۔ اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہو، تو نیچے کمنٹ (Comment) سیکشن میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اس پیغام کو ثواب کی نیت سے اپنے واٹس ایپ اور فیس بک پر ضرور شیئر کریں۔"
.jpeg)
Comments
Post a Comment