اللہ کے فضل کی طلب رکھنے والے بندے: دین کی خدمت اور اس کی برکات
زندگی میں انسان پر کئی طرح کے حالات آتے ہیں؛ کبھی آسانی ہوتی ہے تو کبھی تنگی اور آزمائش۔ لیکن کچھ بندے ایسے ہوتے ہیں جو ہر حال میں اپنے رب کے وفادار رہتے ہیں۔ دینِ اسلام کی خدمت اور اس کا پیغام دوسروں تک پہنچانا ایک ایسی سعادت ہے جو ہر کسی کے حصے میں نہیں آتی۔
قرآنِ پاک کی روشنی میں:
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں اپنے فضل کی طلب اور اس کی راہ میں کوشش کرنے والوں کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے:
"وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللهِ وَاذْكُرُوا اللهَ كَثِيرًا لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ"
ترجمہ: "اور اللہ کا فضل (رزق اور رحمت) تلاش کرو اور اللہ کو کثرت سے یاد کرو تاکہ تم فلاح پا جاؤ۔" (سورہ الجمعہ)
حدیثِ مبارکہ کی روشنی میں:
ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے دین کی خدمت اور اس راہ میں مال و جان لگانے والوں کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا:
"لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ: رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَسُلِّطَ عَلَى هَلَكَتِهِ فِي الحَقِّ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ الحِكْمَةَ فَهُوَ يَقْضِي بِهَا وَيُعَلِّمُهَا"
ترجمہ: "رشک صرف دو بندوں پر جائز ہے؛ ایک وہ جسے اللہ نے مال دیا اور وہ اسے حق کی راہ (دین کی خدمت) میں لٹانے پر کاربند ہو گیا، اور دوسرا وہ جسے اللہ نے علم و حکمت دی اور وہ اس کے مطابق فیصلے کرتا ہے اور لوگوں کو سکھاتا ہے۔" (صحیح بخاری)
🌹 *مُجَدِّدُ الْمِئَةِ الْحَاضِرَة حُضُوْر شَیْخُ الْاِسْلَام دَامَتْ بَرَکَاتُهُمُ الْعَالِیَة* 🌹🔴
صوفیاءِ کرام کا قول:
صوفیائے عظام اور اللہ کے ولیوں کا ہمیشہ سے یہ طریقہ رہا ہے کہ انہوں نے دنیاوی تنگیوں کی پرواہ کیے بغیر دین کا کام کیا۔ ایک بزرگ کا فرمان ہے:
"جو بندہ اپنے حالات کی تنگی کے باوجود اللہ کے دین کے کام میں لگا رہتا ہے، اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کے تمام کاموں کا ضامن بن جاتا ہے۔ بندے کا کام ہے اخلاص کے ساتھ کوشش کرنا، اور رب کا کام ہے اپنے فضل کے دروازے کھولنا۔"
عدل نہیں، فضل کی طلب:
جیسا کہ آپ نے ویڈیو میں سنا، جب اللہ تعالیٰ اپنے ایسے بندوں کو دیکھتا ہے جو تمام تر مشکلات اور کمزوری کے باوجود اس کی راہ میں مخلص ہیں، تو اللہ پاک فرماتا ہے کہ یہ بندے مجھ سے عدل نہیں مانگ رہے، بلکہ یہ میرے فضل کے طلب گار ہیں۔ عدل کا مطلب ہے عمل کے برابر بدلہ، لیکن "فضل" کا مطلب ہے وہ انعام جو اللہ اپنی رحمت سے انسان کی سوچ اور اس کے عمل سے کہیں زیادہ عطا فرماتا ہے۔
جب اللہ پاک آپ کو اپنے دین کے کام کے لیے، نیکی پھیلانے کے لیے اور اپنے محبوب ﷺ کی نوکری کے لیے چُن لیتا ہے، تو یہ اس بات کی سب سے بڑی نشانی ہے کہ اس نے آپ پر اپنا فضل فرما دیا ہے۔
قارئین کے لیے پیغام (آخر میں لگانے کے لیے):
"امید ہے اللہ کے فضل اور دین کی خدمت کے موضوع پر یہ ایمان افروز تحریر آپ کے دلوں میں ایک نیا جذبہ پیدا کرے گی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ہر حال میں اپنے دین کا خادم بنائے اور ہم پر اپنا خصوصی فضل و کرم فرمائے۔ امین۔
اگر آپ کو یہ تحریر اور ویڈیو پسند آئی ہو، تو نیچے کمنٹ (Comment) سیکشن میں اپنی قیمتی رائے دیں اور اسے ثواب کی نیت سے اپنے تمام واٹس ایپ گروپس اور فیس بک پر شیئر کریں.''۔"
Comments
Post a Comment