حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی آج تک کیوں زندہ ہے؟ عزم و استقلال اور محبتِ الٰہی کا لازوال واقعہ
دنیا کی تاریخ میں بڑے بڑے بادشاہ، امیر اور نامور لوگ آئے اور مٹ گئے، لیکن اللہ کے مخلص بندوں کا ذکر اور ان کا عمل صدیوں بعد بھی آج ویسے ہی زندہ ہے جیسے کل کی بات ہو۔ عید الاضحیٰ کے موقع پر دنیا بھر کے مسلمان جو قربانی کرتے ہیں، وہ دراصل حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بے مثال اطاعت کی یادگار ہے۔ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ قربانی ہزاروں سال گزرنے کے بعد بھی آج تک کیوں زندہ ہے؟
📸
محبت کا امتحان اور خلیل اللہ کا رتبہ:
اللہ رب العزت نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنا "خلیل" یعنی گہرا دوست بنا لیا تھا۔ اور صوفیاء فرماتے ہیں کہ جہاں دوستی اور محبت ہوتی ہے، وہاں امتحانات بھی بڑے ہوتے ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی کا کوئی ایک امتحان نہیں تھا، بلکہ ان سے ہر قدم پر محبت کا سودا کیا گیا۔
پہلا امتحان—نمرود کی آگ:
جب انہوں نے حق کی آواز بلند کی، تو ان کا سب سے پہلا امتحان یہ لیا گیا کہ انہیں دہکتی ہوئی آگ کے شعلوں میں ڈالنے کا حکم ہوا۔ لیکن اللہ کی محبت کا عالم یہ تھا کہ وہ بھڑکتی ہوئی آگ بھی ابراہیم علیہ السلام کی محبت کو جلا نہ سکی۔ وہ آگ میں بھی مسکراتے رہے اور محبت کا یہ امتحان کامیابی سے پورا ہوا.
دوسرا امتحان—بیوی اور بچے کی جدائی:
آگ کے امتحان کے بعد اگلی منزل آئی۔ حکم ہوا کہ اپنی وفادار بیوی حضرت ہاجرہ اور ننھے معصوم بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو مکہ کے بے آب و گیاہ صحرا میں، جہاں نہ پانی تھا نہ کوئی انسان، اکیلا چھوڑ آئیں۔ انہوں نے اللہ کے حکم پر اپنے دل کے اس ٹکڑے اور بیوی کی محبت کو بھی قربان کر دیا اور انہیں خدا کے آسرے پر چھوڑ آئے۔
🌹 *مُجَدِّدُ الْمِئَةِ الْحَاضِرَة حُضُوْر شَیْخُ الْاِسْلَام دَامَتْ بَرَکَاتُهُمُ الْعَالِیَة* 🌹🔴
تیسرا اور سب سے بڑا امتحان—بیٹے کی قربانی:
جب وہی معصوم بچہ (حضرت اسماعیل علیہ السلام) جوان ہوا اور باپ کا سہارا بننے کے قابل ہوا، تو اللہ کی طرف سے آخری اور سب سے بڑا حکم آیا کہ اپنے اس لاڈلے بیٹے کو اپنے ہاتھوں سے ذبح کر دو۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس امتحان میں بھی ذرہ برابر دیر نہیں کی اور چھری پکڑ کر تیار ہو گئے۔
قرآنِ پاک کا گواہی:
اس واقعے کو قرآنِ مجید میں یوں بیان کیا گیا ہے:
"قَالَ يٰۤاَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ ۖ سَتَجِدُنِىْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِيْنَ"
ترجمہ: "(بیٹے نے) کہا: اے میرے ابا جان! آپ وہی کیجیے جس کا آپ کو حکم دیا جا رہا ہے، ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔" (سورہ الصافات)
جب باپ اور بیٹے محبت کے اس امتحان میں ایسے پاس ہوئے کہ چھری چلنے سے پہلے ہی اللہ نے جنت سے دنبہ بھیج دیا، تو ان کی یہ ادا اللہ کو اتنی پسند آئی کہ قیامت تک آنے والے انسانوں کے لیے اسے عید الاضحیٰ کی سنت بنا کر ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا۔
آج کی تحریر کا اصل پیغام:
ڈاکٹر صاحب نے اپنے بیان میں جو سب سے خوبصورت بات بتائی ہے، وہ یہ ہے کہ اسلام ہمیں مال و دولت، بیوی بچوں یا دنیا سے محبت کرنے سے منع نہیں کرتا۔ اصل حکم یہ ہے کہ جب دنیا کی محبت اور اللہ کی محبت آمنے سامنے آ جائیں، تو بندے کو یہ دیکھنا ہے کہ وہ کس محبت کو بچاتا ہے اور کس کو اللہ کی رضا کے لیے قربان (ذبح) کرتا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ہر بار اللہ کی محبت کو چنا، اسی لیے ان کی قربانی آج تک زندہ ہے۔
قارئین کے لیے پیغام:
"امید ہے کہ سنتِ ابراہیمی کی اس لازوال داستان اور محبتِ الٰہی کے حقیقی فلسفے پر مبنی یہ تحریر آپ کے دلوں کو ایمان کی روشنی سے منور کرے گی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنے اندر مخلصانہ ابراہیمی جذبہ پیدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ امین۔
اس ایمان افروز موضوع پر تفصیلی بیان سننے کے لیے نیچے دی گئی ویڈیو کو ضرور دیکھیں۔ اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہو، تو نیچے کمنٹ (Comment) سیکشن میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اسے ثواب کی نیت سے اپنے واٹس ایپ اور فیس بک پر ضرور شیئر کریں۔"

Comments
Post a Comment